Like Us

Thursday, April 10, 2014

سلاله او ملاله کے علاوه سب جائز هے

Image

سول کپڑوں میں ملبوس ایک حاضر سروس کپتان نے ریڈیو پروگرام کے بیچ میں سٹوڈیو کا دروازہ کھول کر اپنی تیزی اور زہانت کا مظاہرہ کیا اور پروگرام کے درمیان میں پوچھ گچ بھی کی جس سے اندازہ ہوتا تھا کہ پیمرا کے میڈیایی اخلاق کا ٹھیکہ تو جناب کے پاس ہے۔ جناب نے دھیمی آواز میں سٹوڈیو کے اندر کہا،کیا آپ آن ایئر ہیں، میں نے جواب میں سر ہلا کے حامی بھر دی۔ اور وہ سٹوڈیو سے اپنی ہٹلرانہ سٹایئل میں نکل گئے۔ صاحب اس خوشی سے پھولے نہ سمائے اور پروگرام کے بیچ میں ہی میرے پروڈیوسر کو میرے پیچھے اس پیغام کے ساتھ بھیج دیا کہ کیپٹن صاحب پروگرام کے بعد آپ سے ملاقات کے خواہشمند ہیں۔
اس نوزایئدہ کیریئر میں نے اپنے صحافتی پیشواووں سے ایک بات سیکھی تھی کہ جب وردی والی سرکار چاہے باوردی ہو یا بے وردی اپنے تیءں بلائے تب معاملہ کچھ ٹھیک نہیں ہوتا اور باقی پروگرام جو کہ ابھی تیس منٹ باقی تھا یہی غم کھاتا رہا کہ نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام Imageہوجائے۔ اور ایسی اضطراب کی صورت بھی کیوں نہ ہو جناب دو ٹکے کے اینکر نے بڑے بوٹ صاف کیے بغیر اپنے پروگرام میں ان کے گرو جی کی کلاس لی تھی۔ جس کا وہ ازحد برا مان گئے تھے مجھے تو ایسا لگ رہا تھا جیسے میں اس وقت مرزا قادیانی کی جگہ کھڑا تمام مذہبی جماعتوں کا ردعمل برداشت کررہا ہوں۔ میں نے کوئی نبوت کا دعوا نہٰیں کیا تھا اور نہ ہی ناموس رسالت کے کسی قانون کو چیلنج کیا تھا لیکن اس سے بڑھکر بھی کوئی قوت ہے جو سارے پاکستان کو سموئے ہوئے ہے اور تمام مکتبہء فکر کے لوگ اس کی قدرت اور کرشموں کی قائل ہے جناب اگر آپ کا دھیان اسوقت کسی روحانی چکر میں ہے تو براہ کرم میری نسبت آپ درست جگہ پہ نہٰیں بلکہ میں تو اپنے وطن کے جیالوں، سیاچن کے رکھوالوں اور سوات میں لوگوں کی عصمت کے محافظین کی بات کررہا ہوں۔ جناب نے بلا کر کہا کہ کس سے پوچھ کے آپ نے اپنے پروگرام میں یہ انٹرویو شامل کیا ہے اور جناب میرے بارے میں کچھ زیادہ ہی شکوک و شبھات کا اظہار کرنے لگے۔ وہ اپنے پروٹوکول اور میرے معافی مانگنے کے انتظار میں تھے لیکن میں نے کہہ دیا کہ جناب میرے پاس وقت اتنا نہیں اگر آپ نے مجھے کوئی تنبیہ دینی ہی ہے تو جلدی صادر فرما دیجئے۔ جس پر وہ مزید آگ بگولہ ہوگئے اور شام کو مجھے اپنے ریڈیو سے کال آیی کہ آپکے لئے مزید پروگرام نہیں ہے لحاظہ آپ پھر آنے کی زحمت مت کیجئے گا اور بات یہاں ختم نہیں ہوئی میرے بلکہ ساتھ میرے دوسرے ساتھی اینکر کو بھی نکال باہر کردیا گیا اور انصاف کی بات تو یہ ہے کہ میرے پسینے کی کمائی بھی مجھ سے ھذف کر دی گئی۔
یہ قریب ۲۱۰۲ کی اواخر کی بات ہے جن دنوں خاتون الہند،قوم کی چہیتی، سب کے دلوں کی آواز حضرت جناب ملالہ یوسفزئی رحمتہ اللہ علیہ پر طالبان کے حملے کا ڈھونگ رچا تھا۔ اور بدقسمتی سے میں ان دنوں میں سوات کے طالبان راڈیو کے ردعمل میں پاک فوج کے شعبہء تعلقات عامہ کی جانب سے کھولے گئے ایف ایم ۶۹ کا واحد اینکر تھا جو اس موضوع کا باریک بینی سے باخبر پاکستان پروگرام میں تجزیہ کرنے لگا اور تجزیہ بھی ایسا کہ اپنے معروف صحافی دوست کے یہ الفاظ بھی اس تجزیے میں شامل تھے کہ ملالہ کو سوات میں لڑکیوں کی تعلیم کے لئے اواز اجاگر کرنے کے سلسلے میں نشانہ نہیں بنایا گیا بلکہ اسکے پیچھے بی بی سی کے لئے گل مکئی نام سے لکھے جانے والی وہ ڈائری ہے جو کہ دنیا بھر میں پاکستانی طالبان کے تذلیل کا موجب بنی۔ اس پری ریکارڈڈ انٹرویو میں یہ بھی ایک سوال اٹھایا گیا تھا کہ کیا جنرل کیانی صرف ملالہ کے کیانی ہیں جو کہ فورن سے بھی پہلے ان کی عیادت کو پہنچے اور پلک جپکتے ہی محترمہ علاج کے لئے ہوایی ایمبولینس میں راولپنڈی سی ایم ایچ منتقل کردی گئی۔ تو کیا ایسے میں ان بچے بچیوں کا شکوہ بجا نہیں جو کہ لاپتہ افراد یا دہشتگردوں کے زمرے میں ڈرون حملوں کی نظر ہوتے ہیں۔ اسی موضوع پر پروگرام میں کافی سارا فیڈبیک بھی آیا اور ساتھ میں میری نوکری بھی گئی۔
لیکن ہم سوچ رہے تھے کہ جو باتٰیں ہم نے کی ہے وہ تو لوگوں کی دل کی آواز ہے پھر کیوں ہمارے ساتھ ایسا ہوا لیکن یہ بات تو ہمیں بعد میں سمجھ آیی کہ پاک فوج کے جوان نے ہلمٹ صرف اس لئے پہنی ہوتی ہے کہ اس کا سر بچا رہے ورنہ اس میں اندر سوچ بچار کے لئے کچھ ہوتا نہیں کیونکہ ان بچاروں کے فیصلے تو کہیں اور سے وحی کے زریعے وارد ہوتے ہیں۔
یہ تو اللہ بھلا کرے تحریک طالبان پاکستان کے جناب عدنان رشید کا کہ انھوں نے ملالہ کو خط لکھا جس میں وہی بات کہی گئی تھی کہ ’ملالہ تمھیں لڑکیوں کی تعلیم کے لئے اٹھائے گئے آواز کی پاداش میں نشانہ نہیں بنایا گیا بلکہ اصل موجب تو وہ بلاگ ہے جو آپ سوات آپریشن کے دوران ہمارے خلاف لکھا کرتی تھی‘
موصوف خط میں مزید یہ بھی فرماتے ہیں کہ یاد رکھو ملالہ تم اس لئے ملالہ ہو کہ تم پر طالبان نے حملہ کیا ہے اگر تم کہیں امریکی ڈرون طیارے کے حملے کا نشانہ بنتی تو شائد ہی تمھاری اتنی پزیرائی ہوتی بلکہ تمھاری خبر ہی کسے نشریاتی ادارے سے نشر ہی نہیں ہوتی کیونکہ وہ ڈرون تو ابامہ کی پالیسی کہ حصہ ہے اور وہ تو آپ کے آئڈئیل بھی ہیں۔
تو یہ تو وہی بات ہویی جو میں نے دو سال قبل اپنے پروگرام میں کہی تھی لیکن شائد میری عدنان رشید جتنی مصدقہ شخصیت نہیں تھی۔ خیر یہی نہیں مہران ایئر بیس کے مبئنہ ماسٹر مائینڈ نے اپنے دل کی بڑاس نکالنے کے لئے مزید لکھا ہے کہ ہم طالبان اگر چاہتے تو سوات میں ہزاروں لڑکیاں
سکول جاتی تھی انکو بھی نشانہ بناسکتے تھے لیکن انھوں نے تو بلاگ ہی نہیں لکھے۔ خط میں آگے یہ بھی لکھا تھا کہ ہم طالبان کسی
بھی سکول کے اڑانے کے زمہ دار نہیں کیونکہ آپکی پاک آرمی اور ایف سی اسے اپنی پناہ گاہوں اور کیمپوں کی جگہ استعمال میں لاتی ہیں جو کہ لازمن ہمارے کاروائی کا نشانہ بن جاتے ہیں۔
ہمارے ہاں کئی ادارے اپنے اداریاتی اختیارات کی حدود سے باہے گشت کر رہی ہیں اور کئی ادارے اپنے خول میں اسیے بند ہیں کہ اپنے حدود کے اندر بھی بے بس ہیں۔ اسکی زندہ مثال ہمارا سپریم کورٹ آف اکستان ہے جسکی سنتا ہر کوئی ہے لیکن مانتا کوئی نہیں۔ اسی طرح ابھی پچھلے دنوں میں ایک بین الاقوامی ویب نیوز پیپر کے لئے پاک افغان کراس بارڈر شیلنگ کے ایک ٹاسک پہ کام کر رہا تھا جس کے لئے میں نے فوج کے شعبہء تعلقات عامہ کے ایک میجر صاحب رابطہ کیا تو جناب نے یہ معزوری ظاہر کی کہ ان باتوں کا اختیار تو ہمارے بڑے ہدایت کار میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ کے ساتھ ہے تو میں نے ان کے شان میں بھی عرض کیا کے عالم پناہ مجھے یہ ایک ٹاسک ملا ہے کہ پاک افغان بارڈر پر اب تک کتنے حملے ہوچکے ہیں اس میں کون کتنا ملوث ہے اور اس سے سویلین کو کتنا نقصان اٹھانا پڑا ہے تو آگے سے جواب ملا کہ جناب یہ تو دفتر خارجہ کا کام ہے اور آپ ان ہی سے رجوع کریں چنانچہ فتبال کے کیری کی طرح اپنے سوالوں کے جواب کی تاک میں دفترخارجہ سے بھی رابطہ کیا تو وہاں پر ایک ڈیپلومیٹک جواب کے ساتھ یہ ہدایت ملی کی اس مد میں مجھے فوج کے شعبہء تعلقات عامہ سے ہی بھتر رہنمائی مل سکتی ہے۔ تب جا کہ مجھے اپنے میتھس ٹیچر اعظم استاد جی کی بات سمجھ میں آئی کہ متماثل الاضلاع مثلث کے تینوں ضلعے برابر ہوتے ہیں جس سے باہر نکلنے کا کوئی چانس نہیں ہوتا۔
اور جب یہی گول مٹول جوابات میں اپنے ایڈیٹر صاحب کو ارسال کئے تو نتیجتن تین صفحے کی سٹوری میں میرے ملک کا موقف تین لائنز پر مبنی تھا۔ جبکہ سلالہ چیک پوسٹ پر جب حملہ کیا گیا تھا تو وہاں پر بھی ہمارے ملک کی آزاد اور خودمختار خارجہ پالیسی کا وضع قطع واضح کیا گیا تھا اور ایک ٹیلیفون پر ۶۲ جوانوں کی جانوں کا سودا ڈن ہوگیا۔
میرے بھائی اگر میرے وطن میں رہنا ہے تو میرے وطن کے اقدار اور اصولوں کو اپنانا ہوگا کیونکہ یہاں ملالہ اور سلالہ حملے کے علاوہ سب کچھ حلالہ ہے۔ اگر میری طرح پنگہ لو گے تو بنے بنائے چیک سے نوکری سمیت ہاتھ دھو بیٹھو گے۔
ایں جی۔۔۔۔ ہاں جی

قائد اعظم سوک دے

Image

زما د وڑوکوالی خبرہ دہ چی کلہ مہ پہ پرائمری کے سبق وے نو مختیار استاز جی زمونگ امتحان اخستو نو د یو ماشوم نہ یے پوختنہ اوکڑہ چی زمونگ د پیغمبر ﷺ سہ نوم دے، نو ماشوم ورتہ بغیر سہ د وقفے نہ جواب ورکڑو چی قائداعظم نو افسر حیران شو۔ خو ولے سہ یے اونہ وے او بیا یے ہم دغہ خبرہ وروستو د استازانو مینز کے کولہ او خندا یے ہم کولہ او پہ خپل تعلیمی نظام یے ا افسوس اظہار ہم کوو۔
پرون چہ کلہ سوارلسم اگست وو او ماتہ زما د ملگرو نہ د نوی پاکستان او قربانو او د مشرانو د تورے او باتورے پیغامونہ راتلل نو لگ یے پہ فکر کے واچولوم چی اخر دا سہ فلم شروع دے۔ مونگ خو بیخی ڑاندہ کبان یو۔ او دا لا سہ کوے چی تیرہ شپہ مے د پختونخوا پہ غیگہ پیخور کے د دے چوکرہ پارٹی دا بد حال اولیدو کوم چی یے پہ گاڈو او او موٹرسایئکلو باندے کوو نو دے قائد اعظم ماما تہ مے ڈیرہ غصہ رالہ چی تاسو تہ زمونگ دا قوم نہ وو معلوم چی مونگ دے پہ دے قھر اڑولو۔ او بیا پہ تیرہ تیرہ زمونگ دا پختانہ ورونڑہ توبہ توبہ۔ یو خوا چغے وھی وایی گرانی، غریبی او بد امنی دہ او بلخوا داسے د مستی Image
پہ بام سمسور پہ روڈونو زان خودنے کوی۔ نو دے قائد اعظم ماما نہ خو مے پہ دے کار دا زڑہ ڈیر بد شو۔ چی کاکا تہ خو لاڑے اخرے ورزے دے پہ یخ زیارت کے تیرے کڑے خو دا لانجہ دے زمونگ سر تہ پریخودہ۔ خو فکر کوم چی د پولے پورے پہ ہندوستان کے چی زمونگ نہ زیات مسلمانان دی نو ھغوی بہ ھم کیدے شی داسے پہ موٹرو او موٹر سایئکلو الا گولہ کوی، او باید چی د بنگلہ دیش مسلمانان چی ڈیرہ مودہ مونگ سرہ یوزایے وو، ھغوی بہ ھم پہ دا حال وی۔ خہ سم دم پہ ہند کے پہ قلار ناست وو، روغ رمٹ مسلمانان یے راواغستل او پہ مینز یے دوہ کڑل ہندوان خو ہم ھغہ ہندوان او ہم ہلتہ پاتے شول، خو دا گوتہ دے شین سترگی ماما ددے جناح کاکا سرہ پہ صلاح کڑے وہ۔ خو اسے یو خبرہ دہ، پہ یو پاکستان کے چی پکے شاوو خوا شل کروڑہ مسلمانان دی درے زایے روژہ او اختر کیگی نو چی کلہ یو ہندوستان وو نو چی دا اختر او روژے بہ سہ حال وو۔ خیر بیا رازو دے زمونگ قامی مشر جناح ماما نہ یو سو تپوسونہ کوو کہ چرتہ دا غصہ مے پہ دے یخہ شی۔
دا مشر چی محمد علی جناح یے نوم وو دے خو مونگ صرف دومرہ پیژنو چی د کراچی پہ یوہ تاجرہ کورنی کے د جناح پونجہ کرہ زیگیدلے وو۔ او وللہ کہ د مور نوم یے رازی مشر سڑے دے د مور نوم یے اخستل ہم خہ نہ دی اوس بہ د قوم پلاسٹکی ٹھیکداران راپسی مونگ بہ زایے تہ اورسی اوکنہ دا خو د جناح ماما پاکستان دے دلتہ خو عوام خلکو لہ سزا ورکوی او مقدمہ بیا وروستو چلی۔ خیر خو دے ماما د رتن جناح سرہ جوڑ وادہ ہم کڑے وو او سہ وخت کے د کانگرس ڈیر ایغ نیغ غڑے وو۔ خو چی ورتہ پتہ اولگیدہ چی دلتہ می سوک نہ اوری نو لکہ د نن وخت پی ٹی آیی (مسلم لیگ) تہ لاڑو او زان نہ یے التہ امیر مقام جوڑ کڑو۔ 
بیا پکے یو بل زوان ہم وو چا چی پاکستان پہ خوب کے لیدلے وو۔ مالہ خندا پہ دے پورے رازی چی نن سبا خو زمونگ پہ قوم کے پی ایچ ڈی سکالران بلکے پوسٹ ڈاک والہ پکے ہم شتہ نو دوی خو چرتہ ددے کشمیر یا افغانستان خوب اونہ لیدو ۔ اوس خو خلک خوبونو کے د خپل ژوند شہزادہ او لیلا وینی خو کیدے شی چی ھغہ وخت بہ دا رواج نہ وو نو۔ خو خیر ھغہ خو ڈیر خہ لیکوال ہم وو او پہ دے قوم بیدارولو یے زان لہ زارہ شنہ کڑے وو۔ خو د چا مشرانو نہ می ہم اوریدلی دی او سہ لگ ڈیر مہ د علامہ محمد اقبال پہ شاعرے کے ھم کتلی دی چی د ھغہ زیاتہ دلچسپی پہ ملت یعنی ٹول عالم اسلام کے وہ ھغی چرے ہم دا نہ غوختل چی مسلمان دے بیل بیل او د پولے پورے راپورے تقسیم شی د ھغہ خو د ٹول مسلمانان یو سلطنت کے یو کولو فلسفہ وہ خو دا راتہ اوس پتہ نیشتہ کہ بیا وروستو ورلہ چا چرتہ د یو وزارت لالچ ورکڑے وی او خپلے خبرے او فلسفے نہ یے ڈڈہ اختیار کڑے وی نو۔ زکہ چی زمونگ پاکستان کے خو د رشوت رواج ڈیر عام دے او دا سہ اوسنے رواج نہ دے بلکے دا یے زمونگ د وطن خٹہ کے اخکلے دے۔
خیر دے جناح ماما خو د مسلمانانو لپارہ د یو پاکستان جوڑولو کار پیل کڑو او داسے ورسرہ نور کسان ھم وو۔ ویل کیگی چی دا وخت داسے یو ٹولگے ھم وو چا چے دا غگ پورتہ کڑے وو چی جناح ماما او ددہ سرہ مرستیال ٹولگی تہ یے اوویئل چی دا مسلمانان مہ تقسیموے، او پہ دے یو ہندوستان کے مونگہ پہ امن کے اوسیدلے شو او دا خبرہ ٹھیک ھم وہ زکہ چی اوس کہ مونگہ بیل یو خو بیا ھم پہ قلار خو نہ یو کنہ، نو خہ نہ وہ چی یو زایے وے نو ڈیر سیزونو او معاملے بہ مو شریکے وے۔ او رختیا یو خبرہ بلہ رایادہ شوہ د پینزم جماعت پہ معاشرتی علوم کے یو سوال وو چی د مسلمانانو او ہندوانو پہ تھزیب کے سہ فرق دے نو مونگہ بہ تھزیب ڈیر لرے پریخودو او د مذھب فرق بہ مو بیانول شروع کڑل او دا زکہ چی مونگ تہ یے پہ ھغہ کتاب کے داسے لیکلی وو۔ چی مسلمانان د یو خدایے عبادے کوی او ھندوان د ڈیرو خدایانو عبادت کوی ھغوی غوا ڈیرہ مقدسہ گنڑی او مونگ یے حلالوو۔ دا داسے نورے خبرے ، خو کیدالے شی چی چا دا کتاب لیکلو ھغہ تہ بہ د مذھب او تھزیب دغہ فرق نہ وو معلوم او کہ پہ قصد یے داسے کڑی وی نو بیا خو زما پشان د ڈیرو تعلیمیافتو مجرم دے۔ 
زہ کلہ کلہ دہ خپل ملک تاریخ تہ پہ دے حیران شم چی د مشرانو او د پوہانو د خولے یو سہ اورم او پہ کتابونو کے بل سہ لولم اخر د چا نہ تپوس اوکڑم چی زما مشر زما قاید سوک دے او محمد علی جناح لہ د قائد اعظم خطاب گاندھی ولے ورکوو، پکار خو دا وہ چی دا ورلہ زمونگ د قام مشرانو ورکڑے وے، ولے د پاکستان د جوڑیدو پرمحال زما د پختون قام مشر خان عبدالغفار خان د کانگرس پہ ڈلہ صرف ددے وجے وو چی ھندوستان دے تقسیم نہ شی۔ او ولے دے یوازے نہ وو بلکے ڈیر علماء ھم دا دریز خپل کڑے وو۔ نو زہ علماء او باچہ خان سنگہ غلط ثابت کڑم او کہ نہ زہ د تحریک پاکستان ستر غڑی یادوم نو د ھغوی کومہ خبرہ اوستایئم۔
بیشکہ چی زمونگ محمد علی بہ ڈیر پوھہ لرلہ خو بلخوا باچہ خان او د ھند لوئے لوئے عالمان ولے د پاکستان د جوڑیدو پہ ترس وو۔ زہ خو تراوسہ پہ دو قومی نظریہ پوھہ نہ شوم چی دا چا مینز تہ راوڑے وہ۔ وایی چی محمد بن قاسم کلہ پہ سندھ برید اوکڑ نو بس دغہ وخت نہ دو قومی نظریہ پہ وجود کے راغلہ بل خوا وایی چی سرسید احمد خان ددے نظریے بانی دے۔ خو ددے نظریے مقصد خو د پاکستان جوڑیدل نہ بلکہ مسلمانان یو زانلہ قوم تسلیمول وو نو دا خو د ڈیر وخت نہ منلے شوے حقیقت وو چی مسلمانان او ھندوان دوانڑہ بیل بیل قومونہ دی۔ ولے زما د کورس پہ کتابونو کے انگریزی خو د یوے ژبے پہ توگہ خودل کیگی خو پختو او اردو کے ٹول اسلامیات خودل کیگی۔ مونگ تہ پہ کتابونو او میڈیا باندے ولے ہند د یو ازلی دشمن پہ توگہ خودل کیگی۔ولے دا سہ دوہ کسان خو نہ دی چی ہر وخت بہ جگڑے کوی دا خو دوہ ملکونہ دی دلتہ بین المللی قانون شتہ دلتہ د حدونو لپارہ معاھدے کیدلے شی او مونگ د یو قوم پہ ھیث د جگڑے نہ کولو یو لاس لیک ھم پیل کولے شی کومہ کے چی د دوانڑو ھیوادونو خیگڑہ دہ۔ خو دا بہ سوک او سنگہ کوی دا زما د سوچ نہ بالا تر خبرے دی۔
خو د پاکستان پہ جوڑیدو کے یو کار اوشو چی مونگ لہ یو زان لہ کیمیا گاہ ملاوو شوہ چی کلہ پکے مونگ ملا او کلہ جرنیل باندے تجربے کوو او کلہ نہ کلہ پکے د عوامو نمایئندگان ھم پہ چٹو کے واچوو۔ اکثر خلق دا وایی چی د نن پاکستان ھغہ پاکستان نہ دے کوم چی جناح جوڑ کڑے وو۔ نو جناح بابا کوم پاکستان جوڑ کڑے وو۔ ھغہ پہ لکونو خلق چی بے کورہ شوی وو ھغہ اوس ھم د ملک پہ بیلا بیلا سیمو کے بے کورہ دی۔ ھغہ د ملک د خزانے او پیسو مسلہ چی وہ نو ھغہ اوس ھم پہ اوچتہ پیمانہ دہ او د قام یو ماشوم د وڑومبے ساہ اخستو سرہ قرضدارے بلل کیگی۔ د اوبو مسلہ اوس ہم پہ ھغہ حال دہ او د وسلے او فوج مسلہ خو زمونگ د قوم ایمان جوڑ شوے دے چی د ٹولے قامی گٹے اتیا سلنہ پہ دے خرچ کوو۔ زما د سوالونو جوابونہ بہ د ڈیرو خلکو سرہ وی خو د ڈیرو وجوھاتو پہ وجہ بہ یے ماتہ نشی رارسولے زکہ چی

مونگ پختانہ بہ د اغیار نہ گیلہ سنگہ اوکڑو
پہ خپل وطن کے پہ نامہ د دھشت گرد یادیږو

کزن ريپ


په تيرو څو اونو کے په بين المللي ورځ پانړو کے پرله پسے د هند په اړه ګينګ ريپ او داسے د زنانو سره نور ظلم زياتي واقعے چاپ شوي دي او هم دا رقم ميډيايي څيړنکاران په دا پرله پسے کيدونکو واقعاتو کے د څه نه څه تړون په لټون کے بوخت دي۔ په دے اړه نوموړو ارګانونو او د لټون شرکتونو خپل راپورونه هم وړاندے کړي دي او نور ډير هم په دے موخه روان دي کيږي۔ خو ولے د زنانه سره زور زياتے د نړئ په هر ګوټ کے په څه نه څه شکل کښے شتون لري۔ که چرته زنانه ډيره بے وسه ده نو خپلے بے وسئ له يے د حيا او د دروند خوئي نوم ورکړے دے او دغه بے وسي يي د ميډيا لخوا د راپورونو وروستو د سختو نتيجو نه ډډه کولو په موخه پټه ساتلے ده۔
 د نړئ ډير هيوادونه د زنانو د حقونو ټهيکدران دي او ځان د ښځو د حقونو يواځيني هCousine rapeيوادونه بولي خو ولے په دغه هيوادونو کے هم يو شمير زنانه ډير د بے وسئ ژوند په تيرولو مجبوره دي۔ که چرته دوي دغه زنانو ته سکرټونه او مني جينز پشان لباسي آزادي وربخشلے ده نو بلخوا يے په خپله خوښه پرده کونکے زنانه نه د هغے پړونے او حجاب هم راخکلے دے۔ که يوه زنانه د خپل وجود نمائيش کوي خو دا خپل واکه زنانه ده او ددے ټول حقونه محفوظ دي خو بلخوا که چرے هم دغه زنانه خپل ښائيست او وجود د نامحرمو خلقو څخه پټول غواړي نو بيا دغي زنانه ته د خزو حقوق پوره په پوره نه دي حاصل۔ په هند کے خزو سره زياتے ولے کيږې دا خو يو اتفاق نه دے بلکے ددے پرشا به ډېرے وجے وي چي بائد د هند دولت يے مخنيوے اوکړي، خو دا هم يو حقيقت دے چي دا زياتے ځمونږ د پښتنو په چاپير چل کے هم شته خو دا د ميډيايي راپورونو هغه شان برخه نه ګرځي کوم رقم چي په هند کے رامخے ته کيږي۔
 نن سبا خو ګينګ ريپ ډير زيات شوے دے خو که تاسي پام لرنه اوکړئ نو ځمونږ په پښتنه سيمه کے د کزن ريپ يو شکل د ډير پخوا نه شته دے خو ولے دا تراوسه د يو عام تن په مشاهده کے نه ده راغلے۔ د پختنو زنانه عمومن د کوره بهر نه اوځي او نه يے سوشل ميډېا او داسے څه بل رقم د خبرتيا وسيلو ته لاس رسنه وي چي لکبله يے په شته ماحول کے د خپل سکون په لټون کے وي او د هغے شاه رخ خان يو عام تن هم کيدلے شي۔  چونکے د دے د حيا ډکو جونو سره بله څه خوښه نه وي نو ارو مرو به د ماما، کاکا يا ترور ځوئي سره د مينے تارونه انډول کوي۔ ځکه چي مينه خو د انساني ژوند بنياد دے او د دے مينے په شا د انسان ډير ضرورتونه هم تړلي دي چي د وينا ضرورت يے نشته ځکه چي هغه يو ښکاره حقيقت دے۔ پښتنه جينئ د دے ضرورت ترسره کولو لپاره هم د دغه رشتو مرسته اخلي۔
 او که يو طرف ته دا مينه بلل کيږي ځکه چي دا جونے دے ته خپله خوښه وائي ولے بلخوا دا ريپ هم بلل کيږې ځکه چي دا عمومن بغير رشتو نه سرته رسي او دا د دے جونے مجبوري ده چي خپل ضرورت لپاره په شته تنانو کښے يو تن خوښ کړي ولے چي نوره څه لاره نه وي۔ خو د فائدے خبره دا ده چي پختنو کے زيات تره د ترونو، ماما ګانو او تروريانو بچو سره رشتے کيږې۔ چي له وجے يے په رشتو کے مضبوطيا هم رازي خو د نوي دور د ډاکټري ريسرچ ترمخه په کزن ودونو کے وراثتي بيماريانے بيا راژوندئ کيږي۔ خو کيدلے شي ځما ډيرے خبرے بے بنياده هم اوګرځي ځکه چي زمونږ د چاپير چل هيت ډير توفير لري خو بيا هم ډيرے خبرے د يوبل سره تړون هم لري۔ که هرڅه اووايو خو دا خبره په ډانګ بيله ده چي د پختنو معاشره کے څه موده وړاندے ښځه ډيره آزاده او خپلواکه وه او هم دا وجه ده چي دا کور په ميرمن بلل کيږې۔

Friday, March 14, 2014

ڈیجیٹل قائد اعظم کے چودہ نکات



قائد محترم قائد مشرق جناب حضرت قائد اعظم نے اپنے دور میں چند تجاویز دی تھی جوکہ پاکستان بننے کا موجب بنی اور اب انہیں چودہ نکات کی جدید شکل درجہ زیل ہے۔

  • ا
       سندھ میں دو سیاسی جماعتوں اور چند قانون نافز کرنے والے اداروں کے علاوہ کسی بھی فرد یا ادارے کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ کراچی میں خوف و حراس پھیلانے کا ٹھیکہ لیلے تاوقتیکہ ادارہ ھازہ میں مندرجہ بالا صاحبان سے ففٹی ففٹی کا صلح کرلے یا ان کے بورڈ آف ڈایریکٹرز میں کسی کو سیل میں خرید لیں۔
  • ۲   
خیبر پختون خواہ کو سیاسی کیمیا گاہ سمجھا اور کہا جایے۔ جس میں پاکستان بھر کے سیاسی زہریلی گیسیں بار بار آزمائی جایئنگی۔ اس بارے اگر کسی مذہبی فرقے یا گروہ کو کوئی سازش سوجھی ہو تو ہوش کے ناخن لیکر آرام سے بیٹھے کیوں کہ امریکی انخلا کی صورت میں مولانا، مفتی ، سید اور قاضی حضرات کے لئے روسی دور سے بھی زیادہ پر تعیش اور پر ٓآسائیش اسامیوں کا منصوبہ تیار ہے ۔ ہاں البتہ ان جملہ اصحاب سے التماس ہے کہ اپنے بچوں کو لندن اور امریکی اداروں میں پڑھاکر اس سلسلے کو دوام بخش دیں۔ 
  • ۳
  خیبر پختونخواہ کی امن اور سالمیت کو تب تک ثانوی ترجیح نہیں دی جایئگی جب تک کے یہاں القائدہ ، ٹی ٹی پی ا ور جنداللہ جیسے ملٹی نیشنل کمپنیوں کے فرینچایئز پشاور صدر یا روسی دور کی طرح یونیورسٹی ٹاون میں کھل نہیں جاتے۔
  • ۴ 
۔ بلوچستان کو پاکستان سے علیحدہ کرکے ایران کو پچاس سال کے لیے لیز پر دینا چاہئے۔ اگرخاطر خواہ آفاقہ ہوا تو اس مدت کو دوگنا کرکے دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کا دائرہ وسیع کردیا جائیگا۔ تاہم بلوچوں کو حق رائیے دیہی دینا اونٹ کو رکشے میں بیٹھانے کے مترادف ہے۔
  • ۵ 
۔ لاپتہ بلوچوں کو ماضی میں شہید ہویے مجاہدین کا صدقہ یا کفارہ سمجھ کر انہیں قومی سطح پر پس پشت ڈالنا چاہیے اور اگر کوئی پھر بھی اس باب کو پلٹے گا تو متلقہ سیکیورٹی اداروں سے این او سی لیکر لاپتہ افراد کے لیسٹ میں اضافہ کرسکتا ہے۔
  • ۶
 کشمیر پاکستان کا شہ رگ ہے اور پنجاب حکومت پاکستان کا، لھازہ خطے میں امن کے قیام کیلئے کشمیر کے مسئلے کا حل پاکستان کی مرضی کے مطابق کشمیریوں کے حق رائے دیہی کے خلاف حل ہونا چاہیے۔ ورنہ ایک دن آیگا جب وائٹ ہاوس والی دکان کے دروازے پہ لکھا ہوگا کہ کشمیر کی آزادی تک قرض بند ہے۔
  • ۷
  جڑواں شہروں سمیت شمالی علاقاجات میں فرقہ واریئت کے ہنر کو فروغ دینے کے لیے فاٹامیں ایک ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹ کا قیام عمل میں لایا جائیگا جس کی ہر ایجنسی میں زیلی شاخیں ہونگی جہاں نیشنل اینٹیگریٹی، نیشنل اینٹرسٹ اور سٹریٹیجک انڈیپت کی ڈگریاں علما معافی چاہتا ہوں طلبا میں تقسیم کی جائینگی۔ ان طلبا سوری علما کو انٹرن شپ کے لئے اورکزئی، کرم اور دیگرایجنسیوں میں بھیجا جائیگا جہاں یہ عملی میدان میں اتر کر حالات کا مقابلہ اور سیاسی داو پیچ سیکھ سکینگے۔
  • ۸
سول میں تمغہ شجاعت، بسالت اور ہلال امتیاز سے آگے کوئی مائی کا لال طلب نہیں کریگا چاہے کتنا ہی بہادر اور نڈر کیوں نہ ہو نیز نشان حیدر جیسے اعزاز کے جملہ حقوق صرف بائی ڈیفالٹ شہید پیدا ہونے والے اعلا عسکری قیادت کے پاس محفوظ ہیں۔ لھازہ اعتزاز کے والدین کو یہ خواب کبھی نہیں دیکھنا چاہیے کیونکہ اس جیسے تو روزانہ دہشت گردوں کی فہرست میں شمار ہوکے گمنام فنا ہوجاتے ہیں۔
  • ۹
 قومی ترانے کو فارسی کی بجائے انگلش میں لکھنا اور پڑھنا چاہیے کیونکہ یہ پاکستان کی سفارتی اور سفارشی زبان ہے۔ جب کہ اعلا قیادت ہمیشہ باہر سے درآمد کرتے ہیں جنکے لئیے قومی ترانے کا آنا ضروری نہیں۔ 
  • ۱۰
 پاکستان میں تب تک تبدیلی ممکن نہیں جب تک (۱) پبلک ٹرانسپورٹ میں زرداری اور نوازشریف لیول کے پالیسیوں پر تنقید اور اپنے زمہ داریوں کی آگاہی بخوبی آنہیں جاتی ک(۲) جب تک لوگ مسجد میں جاکر چپل اپنے ساتھ اندر لیجاتے ہیں تاکہ کوئی چرانہ لیں (۳) اور جب تک عوامی کولر کے ساتھ پینے کا گلاس زنجیر سے بندھا ہوگا ۔ تب تک چھبیس خاندان پاکستانی عوام کا خون چوسنے میں مصروف ہونگے جب ڈیرھ ہوشیار عوام ان کے اس مقصد کے لیے نئے نئے محاذ کھولینگیں۔


  • ۱۱
 پولیس تھانہ عدالت اور دہشتگردوں کے دفاتر میں نہ صرف داڑھی بلکے وردی کا بھی فرق ہوگا جبکے ان کے علاقے اور حدود
کاروائی ایک بھی ہوسکتے ہیں۔ انکے متعلق اگر کوئی شکائیت ہو تو ملک کی اعلا عسکری قوت کو مطلع کرکے ان سے تو کیا حکومت وقت سے بھی چھٹکارہ پایا جاسکتا ہے۔
  • ۱۲ 
 اگر کوئی باہر کا بندہ رائمنڈ ڈیوس کی طرح بین الاقوامی بھادری دکھا کر ہمارے عسکری ادارے کے دو تین ملازمین کو موت کے گھاٹ اتار دے تو ایسے شخصیات کو بین الاقوامی اور امریکی قوانین کے تحت پورے پروٹوکول کے ساتھ ملک سے باہر جانے دیا جائیگا تاکہ ائندہ کے لئے سبق رہیں اور مستقبل میں کوئی بھی نیٹو سپلائی بند کرنے کا نہ سوچیں۔ تاہم ڈاکٹر شکیل
آفریدی جیسے مافوق الفطرت واقعات کی صورت میں فیصلہ بحق پولیٹیکل ایجنٹ محفوظ ہوگا ۔
  • ۱۳
 اور ہاں صحافیوں کے لئے خصوصی التماس ہے کہ جوحکومت او اس سے ملحقہ اداره جوکہے گا سچ کہے گا اور سچ کے سوا کچھ نہیں کہے گا۔ اگر انکے ارشادات سے روگردانی کروگے تو فرعون، ہارون اور نمرود کے موت مروگے۔ کیونکہ دنیا میں جب بھی کسی نے حق کا ساتھ نہیں دیا انکی اموات ہمیشہ عبرتناک ہی رہی ہیں۔
  • ۱۴
 اور آخری نقطہ کوئی بھی قائداعظم، علامہ اقبال اور ان جیسے قوم کے ہیروں کی شان میں گستاخی نہیں کرے گا کیونکہ وہ تو آسمان سے اترے تھے اور ان سے غلطی ہونا تو انسانی فطرت کے خلاف ہے۔ اسکے علاوہ جملہ بڑے تاریخی شخصیات کو کوئی فیس بک یا دیگر سماجی رابطوں کے ویب سائیٹ پر فرینڈ ریکوئیسٹ بھی نہیں بھیجے گا۔ 

Monday, March 10, 2014

خيال دے کلے دے

که هر څومره د هند پر ضد لوبيدو کښے پياوړي دي خو ولے رښتيا دا دي چي د پاکستان لوبغاړو د بنګله ديش په لوبغالئ کښے د هيواد بيرغ ځلولو په هسه کښے د ناوړے ناکامئ مخ اوليدو ۔ دا يواځے د يو لسو تنانو د کرکټ لوبه نه وه بلکے دا د هغه شاو خوا اتلس کروړه عام وګړو د جزباتو سره لوبے کول وو چا چے په څه نه څه شکل کښے دغه لوبه کتلو ته خپلے څوکئ او وظيفے پريخے وے۔  د پاکستان لخوا نوموړي بال وهونکي چي په تيرو څو لوبو کښے يے مخالفے ډلے ته په ميدان کښے د لوبيدو هنرونه په ګوته کلي وو،  تيره ورځ (هفتے په ورځ) د سري لنکا د ګولګوتي ويخته درلودونکي ليسيت ملينګا پرضد سل پاپړ او يو لوړ برابر شو چي په ترڅ کښے يے په لومړي اووه اورو کښۓ درے تنان د لوبغالئ څخه بهر شول۔ خو دا خو لوبه ده کله د داده وار او کله د ابئ وار خو ځمونږ په قسمت داسے ابئ رسيدلے ده چي که داده ډير هم زورور شي خو د ابئ نه وار نشي اخستلے۔ ماته خو د مصباح فواد او عمراکمل لوبه داسے ښکاره شوه چي لکه د پلار درے ضامن ډير نيک سيرته او نيک عمله يئ خو څلورم پرے آرجے رياض پشان واوړي او ټول محنت يے د شګو ډيرے شي۔ هم دا رقم ګل لالا او طلحا خانجي د سري لنکا د ګټے لپاره لګولے زور يو په دوه کو او بيا پروفيسوري پکښے يو کيچ هم له مينځه ورکلو چي له عمله يے ټولو کتونکو مخ ته بالټي واچول۔ که څه لګ ډيره هيله او آسره وه نو هغه هم راله حفيظ ختمه کلله۔ منم چي هغه به داسے نه کول غوښتل خو بيا هم اوشول۔ خو که مونږ د خپلو لوبغاړو سپکاوے شروع کلو نو دا به يوه بے فضوله خبره يئ ځکه چي په کوم رقم چي د سري لنکا لوبغاړو په ميدان کښے کتونکي ټينګ کلي وو نو هغه هم د ستائينے وړدي۔ چي دا ولے مونږ د هند او بنګله ديش پرضد دومره ننګيالي يو او د سري لنکا سره مخامخ کيدو باندے مو لينګي رپيږي، خو هغه د هجرے خبره چي مړه دا ميچ هم فيکس وو خيال دے کلے دے۔۔۔؟



Monday, March 3, 2014

آدھا تیتر آدھا بٹیر

زندگی میں تو ویریئس مواقع ایسے آتے ہیں این ویچ بندہ کافی ساری ہیپینیس اکٹھا کرلیتا ہے اور سم ٹایمز تو لایئف ہل لگتی ہے۔ کٹھن مراحل تو ایوری ون پہ گزرتی ہے اور ہر ایک کی سٹوری بھی دوسرے سے ڈیفیرنٹ ہے۔ می اپنے زندگی کے دیٹ مرحلے کو شیئر نہیں کرونگا اور نہ ہی آپکو اپنی کرنل شیر خان جیسی بریوری کے ٹیلز سناونگا۔ ٹو ڈے میں یورز کو ایک ایسی گرل کی سٹوری سناونگا جس نے اپنی ہول زندگی ایک پرسن کے انتظار میں گزار دی۔ شی تو ھز کی ایسی لور تھی کہ اسکا نام ہر وقت ون آر اینادر بہانے اسکے لینگوئج سے نکلتا تھا۔ شی اور ہی دونوں ایک ہی یونیورسٹی کے ڈیفیرنٹ ڈیپارٹمنٹ میں ریڈ کرتے تھے۔ شی صائیمہ کے نام سے نون تھی اور ہی اسد کے نام سے پیپل کے بیچ پہچانا جاتا تھا۔صایئمہ اور اسد کی میٹنگ پشاور یونیورسٹی کے کاپی شاپ مارکیٹ میں ہوئی۔ اور ملاقات بھی وٹ آ خوب ملاقات تھی کہ صایئمہ ٹوورڈز اپنے فرینڈز دیکھ رہی تھی، کہ فرنٹ سے اسد ایک ہاتھ میں جوس کا گلاس اور دوسرے ہینڈ میں موبایئل سے میسیج ٹایپ کررہا تھا، آگیا ۔۔۔کہ اچانک دونوں کا کولیجن ہوگیا اور دی ہول جوس اسد کے ہاتھ سے گرے ہویے موبائیل کے اوپر جا گرا ۔Adha tetar adha bater
اسد لوور مڈل کلاس سے بیلانگ کرتا تھا اور ڈیفیکلٹلی یونیورسٹی کے ایکسپنسز برداشت کر رہا تھا۔ صایئمہ کے پاس سوری کے علاوہ کوئی چارہ ناٹ تھا۔ لیکن سوری سے اسد کا وہ موبائیل تو واپس انے سے رہا جو اسکی منگیتر نے گھر میں کلاتس سیونگ کرتے کرتے پیسے اکٹھے کرنے بعد لیکر دیا تھا۔ اسد کے لیئے دیٹ ٹایئم موبائیل ب سے قیمتی اثاثہ تھا۔ اور فرینڈز کے صلاح اور کنسلٹنسی سے صائیمہ ھیڈ تو ٹھیک اسد کا موبائیل ۔ اور اسی بہانے دونوں کے بٹوین رابطے کے تمام سورسز کا ایکسچینج بھی ٹیک پلیس ہوا۔ اور ایک ہفتے کے بعد اسد کو ہز اون موبائیل اوسی حالت میں ملا۔ اور جو ہی اس نے موبائیل کیا موبایئل کے سکرین پہ صایئمہ کے نام ایک مسج ان پڑھ موجود تھا، اسد نے جو میسج ریڈ کیا تو وہ صایئمہ کی طرف سے معافی والا مسج تھا۔ اور معافی کے میسجز کا یہ تبادلہ رفتہ رفتہ انڈرسٹینڈنگ میں تبدیل ہوتا گیا۔
اسد چونکہ ایک رورل ایریا سے بیلانگ کرتا تھا اور بچپن ہی میں اسکی انگیجمنٹ ہوچکی تھی لیکن یہ ٹاک صایئمہ کے نالج میں نہیں تھی اور نہ ہی اسد صایئمہ کو یہ بات بتانا چاہتا تھا بیکاز اسد کے موسٹلی اخراجات اب صائیمہ کے پاکٹ منی میں سے پورے ہونے لگے تھے اور اسد کی تعلیمی اخراجات ایزیلی پورے ہونے لگے۔ اسد کے اپنے ڈیسٹینیشن تک پہنچنے کے لیے صایئمہ جیسی گرل فرینڈ کی ضرورت تھی جبکہ صایئمہ کو اپنے لایئف پارٹنر کے لیے جو سیلف میڈ بندہ چاہیے تھا وہ اسد کے شیپ میں اسکے سامنے تھا اور اسکے ساتھ فیچر میں ہونیوالے بندھن کے ڈریمز دیکھتی تھی۔ کرتے کرتے دونوں کے بیٹوین دو سال گزر گئے اور دونوں اپنے اپنے ڈیپارٹمنٹ سے ڈگری سیکور کرکے عملی زندگی میں داخل ہونے لگے تھے۔ دوسری جانب دونوں پیار کے راستے میں اتنا بڑھ چکے تھے کہ یوٹرن بہت پیچھے رہ چکا تھا۔ ناوو صایئمہ کافی سیرئیس ہوچکی تھی اور جاب سے پہلے اسد سے میرج کے بارے میں سوچ رہی تھی اور اپنے پیرنٹس کو راضی کرنے کے قریب تھی لیکن والدین کی شرط تھی کہ وہ لڑکے سے ملنے کے بعد ہی کوئی ڈیسیجن لینگے۔
ان دنوں میں اسد کو گاوں جانا پڑا۔ اس سے پہلے صایئمہ ایوری تنگ اسد کو بتا چکی تھی اور اسد کا ورجن تھا کہ وہ گاووں جا کے اپنے پیرنٹس سے بات کرکے شہر لایئگا اور صایئمہ کا رشتہ مانگنے ھر کے ہوم آئیگا۔ اسد ہیپی ہیپی گھر چلا گیا اور گھر جاکر نہ کوئی ایڈریس ویڈریس اور نہ کوئی کال فون وغیرہ ،،، صائیمہ کے کہنے کے مطابق ایوری پاسبل کوشش کی لیکن اب تک اسد کا کوئی رابطہ نہیں ہوا، ہاو ایور اسکے دوستوں کے مطابق جناب نے اپنے بچپن کی منگیتر سے شادی کی ہے اور لاف اینڈ ہیپی کی لایئف گزار رہا ہے۔ صائیمہ اب بھی اسد کے بے وفائی کے جواز سرچ کر رہی ہے۔ لیکن اس سٹوری کو صرف اسد ہی بیلنس کرسکتا ھے تا کہ اسکا ورجن کیا ہے۔ لیکن صائمہ کی ڈھلتی جوانی بھی جواب دینے لگی ہے اور ہر کی زندگی کا کوئی حاصل بھی نہیں ہے۔ صائمہ نجانے کتنے پیپلز کو فیس بک پر اپنی ہاف لو کی کہانی سناتی رہیگی اور پھر لائک می اسکے ساتھ ملتے ملتے ہر کا دکھ درد ریڈیوس کرنے کی ناکام کوشش کرتے رہینگے۔ کیا محبت ایسی ہوتی ہے اگر نہیں تو پھر کیسی ہوتی ہے۔۔۔؟

Monday, June 10, 2013

فیرنی نما زرد خاتون، ایک انار سو بیمار


َ’وہ اپنے نزاکت کے نخرے اور لطافت کے کرشمے بکھیرتے ھویے نیم کنوارے انجمن میں یوں مخل ھویئں کہ جیسے دبے پاوں چمن میں بھار آیی ہو، لیکن محفل میں بیٹھے حضرات نے گنوارہ ھی نہ کیا کہ کویی فالصہ جیسا  وجود زن انکی محفل میں شامل ھوگیا ہے او وہ گنوارہ کیسے کرتے محفل میں تشریف رکھے ہویے ایک نیم بزرگ انسان جو اپنے زندگی کے اکثر و بیشتر لمحات رنگ رلیاں مناتے ھویے یادگار بنا چکے تھے  یھاں انتھایی متانت کے ساتھ اپنے تجربے کے ہم عمر نوجوانوں میں انسداد ازدواجیت کی تحریک کو متحرک کرنے کی ترویج میں ایسے مگن ھے کہ کسی کے دخول و خروج کا پتہ ھی نھیں چلتا۔ وہ بزرگ اپنے لاشعور جو کہ میرے اندازے کے مطابق ایک ھزار گیگا بایئٹ کے لگ بگ ھوگا سے موقع محل کے مناسبت سے ایک ایک منفرد واقعہ سناتے اور صحبت میں بیٹھے نوجوانوں کے حوصلے ازدواجیت کے ضد میں اور بھی بلند ھوتے، درحقیقت یہ صاحب بھادر اتنا سنجیدہ مزاق لے بیٹھے تھے کہ ھر نوجوان محفل میں نفسیاتی غیر حاضری کا شکار تھے اور ان کے ھاں میں ھاں ملاتے ھوئے میری طرح یہی سوچتے کہ میں نے تو جنم جنم ساتھ نبھانے کی قسمیں اٹھارکھی ھیں، بھلا میں کیسے اپنے آنے والے  درد سر سے چھٹکارا پاوں گا۔

 کیا یہ زنانہ زات اتنی بری ھے کہ اس کے ساتھ ایسا سلوک روا رکھا جایے۔ اور اگر یسا ہی ہے تو یہ سامنے بیٹھی زرد فیرنی کی طرح لشکارے مارتے ھویی جوانی کیوں اتنا ستاتی ھے۔  کیا یہ انڈے کے زردی کے مماثلت والے لباس میں ملبوس نینوں کو شٹر ڈاون ہڑتال کے دروازوں کی طرح نیچھے کیے ھویے مستی میں سست روی کے قایئل دوشیزہ بھی اسی گروہ کا حصہ ھے جسکے برخلاف ھم سب زبانی اور فکری طور پر برسر پیکار ہیں۔

کافی گفت و شنید کے بعد وہ کوہ کاف کی پری جیسی نازک خاتون نما دوشیزہ بھی سمجھ گئیں کہ اسکے آجو باجو انھی کے زات برخلاف باتیں اور آنے والے وقت کی منصوبہ بندی ہورھی ھے۔ تاہم موصوفہ کے  سید قایم علی شاہ کے سر جیسے صاف وشفاف ایڑھی کے درد نے حاضرین محفل کی توجہ ایسی بٹوری جیسے کویی ناچاہتے ہویے بھی ڈیپارٹمنٹ میں نو وارد ہونی والی خاتون کی رہنمایی کے لیے لپکتے ہیں‘

یہ کسی سنیمایی سین کی منظر کشی نہی اور نہ ہی کسی سجی محفل کی روداد ھے، اگر ھے تو فقط ایک حادثاتی ملاقات کے چند ناگزیر لمحات ہے جس نے بے چینی اور عدم اطمینان کی ابر آلود فضا کو میرے خیالات کے تھانے میں سفارشات کے فون کر کر کے مجھے وقایع نگاری پر مجبور کیا۔ بریالی صمدی کے ویسٹ کوٹ کے بٹن جیسے بڑی بڑی گول انکھیں جو کہ ایک ھی محفل میں کیی محازوں سے نبردآزما تھیں، کبھی جھکتی تو کبھی سرویلنس کیمرے کی طرح محفل میں پایے جانیوالے اشرف المخلوقات کے بہکتے ہویے چھرے پر لمحہ بھر کے لیے رکتی اور اپنی خارجہ پالیسی کا تعین کرنے بعد دوسرے شخص کی جانب برھتی۔ ہر ایک شخص سمیت ہمارے صحافتی پیشوا نے دل میں یہی ٹان لی تھی کہ ہنسی تو پنسی اور ہنستی تو وہ تھی ہی لیکن پھنسنے کی تصدیق کے چکر میں کبھی کویی شیدایی ھو کہ موقع محل میں بال اچال کر اپنے انباکس سے شعر سنا کر سمیش مارتا  تو کبھی کویی خود کو خواتین کے نفسیات کو سمجھنے والا ماہر گردانتا۔ میرے پاس تو سوایے میرے بے تکے اور بے سرے مزاج کے کچھ تھا ہی نہیں اور ایسے مسلح محفل میں مجھے اپنا آپ ویسے افغانستان جیسا نظر آیا۔ لیکن میرے پاس بھی کچھ ملا عمر  اور اسامہ بن لادن جیسے چونکا دینے والے چند ہی جملے تھے جو کہ میدان میں بروقت وار چکے تھے۔  اس محفل میں ایک شیشہ بدن، پھول کی پتی کی مانند نازک اور جیو جایئن کرنے کے بعد نزاکت کا ایئپل ٹاور کھڑا کیے ہویے کڑی سمیت تین کنوارے اور دو ازدواجی بندھن میں بندھے جسمیں ایک نیم   بزرگ  تھے جن کے مطابق ایسے دوشیزاوں کے ساتھ  تو جوانی دوبارہ انگڑایی لیتی ہے جبکہ دوسرے صاحب تو ہمارے باتوں سے قدرے چیں بجبیں ہوکے اپنی ان وانٹڈ خوشی کا اظھار کردیتے شامل تھے۔  محفل میں بیٹھا ایک نوجوان  تھا،جسکے دل میں عشق کا سمندر ٹھاٹھے مارتے ہویے محسوس ہورہا تھا، نجانے کونسے مس افریقہ کے  عشق کی بھیڑیاں پہنی ہویی تھی۔ ٹھنڈی ٹھنڈی آہیں بھرنے کے ساتھ ساتھ موصوف انکھ کے اندرونی ساخت کو بغیر بیرونی حرکت کے اندر ہی اندر گما کے محبوب کے متماثل الساقین مثلث جیسے نورانی چہرے کا دیدار کرتا۔

تاہم باتیں تو وہی چل رہی تھی کہ اختیارات میں بارک اوبامہ سے زیادہ باختیار اور مرضی میں پاک آرمی جیسے  خودمختاری کے مالک خواتین سے کیسے بندہ نو دو گیارہ ہو کہ اللہ کے عطا کردہ اس پرتعیش جیند و جان سے  مشرف بتفویض ہوا جاسکے۔ لیکن کیی جگہ تو زہن میں اقبال کا وہ شعر یاد اتا تھا جو انھوں نے عالم مدحوشی سے سرشار ھوکر فرمایا تھا جسکے الفاظ کچھ یوں ہیں کہ
وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
اسی کے دم سے ہے جھاں کا سوزو دروں
 لیکن تحریک عدم ازدواجیت نے اس شعر کا حلیہ بگاڑ کر کچھ یوں کردیا ہے کہ
 وجود زن سے ہیں تصویر اخبارات میں رنگ
اسی کے دم سے ہیں ہر گھر میں جنگ و جنوں
بس یہی پہ جناب محفل نیم بزرگ، شرمیلا فاروقی جیسی دوشیزہ، ازدواجیت کے متاثر اور متمنی سے میں نے اجازت لی اور پشار صدر کے بادشاہ ٹاور سے سیدھا یونیورسٹی ٹاون کے لیے چل نکلا۔ شاید ہی پھر کویی ایسی محفل نصیب ہو۔