Like Us

There was an error in this gadget

Friday, March 14, 2014

ڈیجیٹل قائد اعظم کے چودہ نکات



قائد محترم قائد مشرق جناب حضرت قائد اعظم نے اپنے دور میں چند تجاویز دی تھی جوکہ پاکستان بننے کا موجب بنی اور اب انہیں چودہ نکات کی جدید شکل درجہ زیل ہے۔

  • ا
       سندھ میں دو سیاسی جماعتوں اور چند قانون نافز کرنے والے اداروں کے علاوہ کسی بھی فرد یا ادارے کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ کراچی میں خوف و حراس پھیلانے کا ٹھیکہ لیلے تاوقتیکہ ادارہ ھازہ میں مندرجہ بالا صاحبان سے ففٹی ففٹی کا صلح کرلے یا ان کے بورڈ آف ڈایریکٹرز میں کسی کو سیل میں خرید لیں۔
  • ۲   
خیبر پختون خواہ کو سیاسی کیمیا گاہ سمجھا اور کہا جایے۔ جس میں پاکستان بھر کے سیاسی زہریلی گیسیں بار بار آزمائی جایئنگی۔ اس بارے اگر کسی مذہبی فرقے یا گروہ کو کوئی سازش سوجھی ہو تو ہوش کے ناخن لیکر آرام سے بیٹھے کیوں کہ امریکی انخلا کی صورت میں مولانا، مفتی ، سید اور قاضی حضرات کے لئے روسی دور سے بھی زیادہ پر تعیش اور پر ٓآسائیش اسامیوں کا منصوبہ تیار ہے ۔ ہاں البتہ ان جملہ اصحاب سے التماس ہے کہ اپنے بچوں کو لندن اور امریکی اداروں میں پڑھاکر اس سلسلے کو دوام بخش دیں۔ 
  • ۳
  خیبر پختونخواہ کی امن اور سالمیت کو تب تک ثانوی ترجیح نہیں دی جایئگی جب تک کے یہاں القائدہ ، ٹی ٹی پی ا ور جنداللہ جیسے ملٹی نیشنل کمپنیوں کے فرینچایئز پشاور صدر یا روسی دور کی طرح یونیورسٹی ٹاون میں کھل نہیں جاتے۔
  • ۴ 
۔ بلوچستان کو پاکستان سے علیحدہ کرکے ایران کو پچاس سال کے لیے لیز پر دینا چاہئے۔ اگرخاطر خواہ آفاقہ ہوا تو اس مدت کو دوگنا کرکے دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کا دائرہ وسیع کردیا جائیگا۔ تاہم بلوچوں کو حق رائیے دیہی دینا اونٹ کو رکشے میں بیٹھانے کے مترادف ہے۔
  • ۵ 
۔ لاپتہ بلوچوں کو ماضی میں شہید ہویے مجاہدین کا صدقہ یا کفارہ سمجھ کر انہیں قومی سطح پر پس پشت ڈالنا چاہیے اور اگر کوئی پھر بھی اس باب کو پلٹے گا تو متلقہ سیکیورٹی اداروں سے این او سی لیکر لاپتہ افراد کے لیسٹ میں اضافہ کرسکتا ہے۔
  • ۶
 کشمیر پاکستان کا شہ رگ ہے اور پنجاب حکومت پاکستان کا، لھازہ خطے میں امن کے قیام کیلئے کشمیر کے مسئلے کا حل پاکستان کی مرضی کے مطابق کشمیریوں کے حق رائے دیہی کے خلاف حل ہونا چاہیے۔ ورنہ ایک دن آیگا جب وائٹ ہاوس والی دکان کے دروازے پہ لکھا ہوگا کہ کشمیر کی آزادی تک قرض بند ہے۔
  • ۷
  جڑواں شہروں سمیت شمالی علاقاجات میں فرقہ واریئت کے ہنر کو فروغ دینے کے لیے فاٹامیں ایک ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹ کا قیام عمل میں لایا جائیگا جس کی ہر ایجنسی میں زیلی شاخیں ہونگی جہاں نیشنل اینٹیگریٹی، نیشنل اینٹرسٹ اور سٹریٹیجک انڈیپت کی ڈگریاں علما معافی چاہتا ہوں طلبا میں تقسیم کی جائینگی۔ ان طلبا سوری علما کو انٹرن شپ کے لئے اورکزئی، کرم اور دیگرایجنسیوں میں بھیجا جائیگا جہاں یہ عملی میدان میں اتر کر حالات کا مقابلہ اور سیاسی داو پیچ سیکھ سکینگے۔
  • ۸
سول میں تمغہ شجاعت، بسالت اور ہلال امتیاز سے آگے کوئی مائی کا لال طلب نہیں کریگا چاہے کتنا ہی بہادر اور نڈر کیوں نہ ہو نیز نشان حیدر جیسے اعزاز کے جملہ حقوق صرف بائی ڈیفالٹ شہید پیدا ہونے والے اعلا عسکری قیادت کے پاس محفوظ ہیں۔ لھازہ اعتزاز کے والدین کو یہ خواب کبھی نہیں دیکھنا چاہیے کیونکہ اس جیسے تو روزانہ دہشت گردوں کی فہرست میں شمار ہوکے گمنام فنا ہوجاتے ہیں۔
  • ۹
 قومی ترانے کو فارسی کی بجائے انگلش میں لکھنا اور پڑھنا چاہیے کیونکہ یہ پاکستان کی سفارتی اور سفارشی زبان ہے۔ جب کہ اعلا قیادت ہمیشہ باہر سے درآمد کرتے ہیں جنکے لئیے قومی ترانے کا آنا ضروری نہیں۔ 
  • ۱۰
 پاکستان میں تب تک تبدیلی ممکن نہیں جب تک (۱) پبلک ٹرانسپورٹ میں زرداری اور نوازشریف لیول کے پالیسیوں پر تنقید اور اپنے زمہ داریوں کی آگاہی بخوبی آنہیں جاتی ک(۲) جب تک لوگ مسجد میں جاکر چپل اپنے ساتھ اندر لیجاتے ہیں تاکہ کوئی چرانہ لیں (۳) اور جب تک عوامی کولر کے ساتھ پینے کا گلاس زنجیر سے بندھا ہوگا ۔ تب تک چھبیس خاندان پاکستانی عوام کا خون چوسنے میں مصروف ہونگے جب ڈیرھ ہوشیار عوام ان کے اس مقصد کے لیے نئے نئے محاذ کھولینگیں۔


  • ۱۱
 پولیس تھانہ عدالت اور دہشتگردوں کے دفاتر میں نہ صرف داڑھی بلکے وردی کا بھی فرق ہوگا جبکے ان کے علاقے اور حدود
کاروائی ایک بھی ہوسکتے ہیں۔ انکے متعلق اگر کوئی شکائیت ہو تو ملک کی اعلا عسکری قوت کو مطلع کرکے ان سے تو کیا حکومت وقت سے بھی چھٹکارہ پایا جاسکتا ہے۔
  • ۱۲ 
 اگر کوئی باہر کا بندہ رائمنڈ ڈیوس کی طرح بین الاقوامی بھادری دکھا کر ہمارے عسکری ادارے کے دو تین ملازمین کو موت کے گھاٹ اتار دے تو ایسے شخصیات کو بین الاقوامی اور امریکی قوانین کے تحت پورے پروٹوکول کے ساتھ ملک سے باہر جانے دیا جائیگا تاکہ ائندہ کے لئے سبق رہیں اور مستقبل میں کوئی بھی نیٹو سپلائی بند کرنے کا نہ سوچیں۔ تاہم ڈاکٹر شکیل
آفریدی جیسے مافوق الفطرت واقعات کی صورت میں فیصلہ بحق پولیٹیکل ایجنٹ محفوظ ہوگا ۔
  • ۱۳
 اور ہاں صحافیوں کے لئے خصوصی التماس ہے کہ جوحکومت او اس سے ملحقہ اداره جوکہے گا سچ کہے گا اور سچ کے سوا کچھ نہیں کہے گا۔ اگر انکے ارشادات سے روگردانی کروگے تو فرعون، ہارون اور نمرود کے موت مروگے۔ کیونکہ دنیا میں جب بھی کسی نے حق کا ساتھ نہیں دیا انکی اموات ہمیشہ عبرتناک ہی رہی ہیں۔
  • ۱۴
 اور آخری نقطہ کوئی بھی قائداعظم، علامہ اقبال اور ان جیسے قوم کے ہیروں کی شان میں گستاخی نہیں کرے گا کیونکہ وہ تو آسمان سے اترے تھے اور ان سے غلطی ہونا تو انسانی فطرت کے خلاف ہے۔ اسکے علاوہ جملہ بڑے تاریخی شخصیات کو کوئی فیس بک یا دیگر سماجی رابطوں کے ویب سائیٹ پر فرینڈ ریکوئیسٹ بھی نہیں بھیجے گا۔ 

Monday, March 10, 2014

خيال دے کلے دے

که هر څومره د هند پر ضد لوبيدو کښے پياوړي دي خو ولے رښتيا دا دي چي د پاکستان لوبغاړو د بنګله ديش په لوبغالئ کښے د هيواد بيرغ ځلولو په هسه کښے د ناوړے ناکامئ مخ اوليدو ۔ دا يواځے د يو لسو تنانو د کرکټ لوبه نه وه بلکے دا د هغه شاو خوا اتلس کروړه عام وګړو د جزباتو سره لوبے کول وو چا چے په څه نه څه شکل کښے دغه لوبه کتلو ته خپلے څوکئ او وظيفے پريخے وے۔  د پاکستان لخوا نوموړي بال وهونکي چي په تيرو څو لوبو کښے يے مخالفے ډلے ته په ميدان کښے د لوبيدو هنرونه په ګوته کلي وو،  تيره ورځ (هفتے په ورځ) د سري لنکا د ګولګوتي ويخته درلودونکي ليسيت ملينګا پرضد سل پاپړ او يو لوړ برابر شو چي په ترڅ کښے يے په لومړي اووه اورو کښۓ درے تنان د لوبغالئ څخه بهر شول۔ خو دا خو لوبه ده کله د داده وار او کله د ابئ وار خو ځمونږ په قسمت داسے ابئ رسيدلے ده چي که داده ډير هم زورور شي خو د ابئ نه وار نشي اخستلے۔ ماته خو د مصباح فواد او عمراکمل لوبه داسے ښکاره شوه چي لکه د پلار درے ضامن ډير نيک سيرته او نيک عمله يئ خو څلورم پرے آرجے رياض پشان واوړي او ټول محنت يے د شګو ډيرے شي۔ هم دا رقم ګل لالا او طلحا خانجي د سري لنکا د ګټے لپاره لګولے زور يو په دوه کو او بيا پروفيسوري پکښے يو کيچ هم له مينځه ورکلو چي له عمله يے ټولو کتونکو مخ ته بالټي واچول۔ که څه لګ ډيره هيله او آسره وه نو هغه هم راله حفيظ ختمه کلله۔ منم چي هغه به داسے نه کول غوښتل خو بيا هم اوشول۔ خو که مونږ د خپلو لوبغاړو سپکاوے شروع کلو نو دا به يوه بے فضوله خبره يئ ځکه چي په کوم رقم چي د سري لنکا لوبغاړو په ميدان کښے کتونکي ټينګ کلي وو نو هغه هم د ستائينے وړدي۔ چي دا ولے مونږ د هند او بنګله ديش پرضد دومره ننګيالي يو او د سري لنکا سره مخامخ کيدو باندے مو لينګي رپيږي، خو هغه د هجرے خبره چي مړه دا ميچ هم فيکس وو خيال دے کلے دے۔۔۔؟



Monday, March 3, 2014

آدھا تیتر آدھا بٹیر

زندگی میں تو ویریئس مواقع ایسے آتے ہیں این ویچ بندہ کافی ساری ہیپینیس اکٹھا کرلیتا ہے اور سم ٹایمز تو لایئف ہل لگتی ہے۔ کٹھن مراحل تو ایوری ون پہ گزرتی ہے اور ہر ایک کی سٹوری بھی دوسرے سے ڈیفیرنٹ ہے۔ می اپنے زندگی کے دیٹ مرحلے کو شیئر نہیں کرونگا اور نہ ہی آپکو اپنی کرنل شیر خان جیسی بریوری کے ٹیلز سناونگا۔ ٹو ڈے میں یورز کو ایک ایسی گرل کی سٹوری سناونگا جس نے اپنی ہول زندگی ایک پرسن کے انتظار میں گزار دی۔ شی تو ھز کی ایسی لور تھی کہ اسکا نام ہر وقت ون آر اینادر بہانے اسکے لینگوئج سے نکلتا تھا۔ شی اور ہی دونوں ایک ہی یونیورسٹی کے ڈیفیرنٹ ڈیپارٹمنٹ میں ریڈ کرتے تھے۔ شی صائیمہ کے نام سے نون تھی اور ہی اسد کے نام سے پیپل کے بیچ پہچانا جاتا تھا۔صایئمہ اور اسد کی میٹنگ پشاور یونیورسٹی کے کاپی شاپ مارکیٹ میں ہوئی۔ اور ملاقات بھی وٹ آ خوب ملاقات تھی کہ صایئمہ ٹوورڈز اپنے فرینڈز دیکھ رہی تھی، کہ فرنٹ سے اسد ایک ہاتھ میں جوس کا گلاس اور دوسرے ہینڈ میں موبایئل سے میسیج ٹایپ کررہا تھا، آگیا ۔۔۔کہ اچانک دونوں کا کولیجن ہوگیا اور دی ہول جوس اسد کے ہاتھ سے گرے ہویے موبائیل کے اوپر جا گرا ۔Adha tetar adha bater
اسد لوور مڈل کلاس سے بیلانگ کرتا تھا اور ڈیفیکلٹلی یونیورسٹی کے ایکسپنسز برداشت کر رہا تھا۔ صایئمہ کے پاس سوری کے علاوہ کوئی چارہ ناٹ تھا۔ لیکن سوری سے اسد کا وہ موبائیل تو واپس انے سے رہا جو اسکی منگیتر نے گھر میں کلاتس سیونگ کرتے کرتے پیسے اکٹھے کرنے بعد لیکر دیا تھا۔ اسد کے لیئے دیٹ ٹایئم موبائیل ب سے قیمتی اثاثہ تھا۔ اور فرینڈز کے صلاح اور کنسلٹنسی سے صائیمہ ھیڈ تو ٹھیک اسد کا موبائیل ۔ اور اسی بہانے دونوں کے بٹوین رابطے کے تمام سورسز کا ایکسچینج بھی ٹیک پلیس ہوا۔ اور ایک ہفتے کے بعد اسد کو ہز اون موبائیل اوسی حالت میں ملا۔ اور جو ہی اس نے موبائیل کیا موبایئل کے سکرین پہ صایئمہ کے نام ایک مسج ان پڑھ موجود تھا، اسد نے جو میسج ریڈ کیا تو وہ صایئمہ کی طرف سے معافی والا مسج تھا۔ اور معافی کے میسجز کا یہ تبادلہ رفتہ رفتہ انڈرسٹینڈنگ میں تبدیل ہوتا گیا۔
اسد چونکہ ایک رورل ایریا سے بیلانگ کرتا تھا اور بچپن ہی میں اسکی انگیجمنٹ ہوچکی تھی لیکن یہ ٹاک صایئمہ کے نالج میں نہیں تھی اور نہ ہی اسد صایئمہ کو یہ بات بتانا چاہتا تھا بیکاز اسد کے موسٹلی اخراجات اب صائیمہ کے پاکٹ منی میں سے پورے ہونے لگے تھے اور اسد کی تعلیمی اخراجات ایزیلی پورے ہونے لگے۔ اسد کے اپنے ڈیسٹینیشن تک پہنچنے کے لیے صایئمہ جیسی گرل فرینڈ کی ضرورت تھی جبکہ صایئمہ کو اپنے لایئف پارٹنر کے لیے جو سیلف میڈ بندہ چاہیے تھا وہ اسد کے شیپ میں اسکے سامنے تھا اور اسکے ساتھ فیچر میں ہونیوالے بندھن کے ڈریمز دیکھتی تھی۔ کرتے کرتے دونوں کے بیٹوین دو سال گزر گئے اور دونوں اپنے اپنے ڈیپارٹمنٹ سے ڈگری سیکور کرکے عملی زندگی میں داخل ہونے لگے تھے۔ دوسری جانب دونوں پیار کے راستے میں اتنا بڑھ چکے تھے کہ یوٹرن بہت پیچھے رہ چکا تھا۔ ناوو صایئمہ کافی سیرئیس ہوچکی تھی اور جاب سے پہلے اسد سے میرج کے بارے میں سوچ رہی تھی اور اپنے پیرنٹس کو راضی کرنے کے قریب تھی لیکن والدین کی شرط تھی کہ وہ لڑکے سے ملنے کے بعد ہی کوئی ڈیسیجن لینگے۔
ان دنوں میں اسد کو گاوں جانا پڑا۔ اس سے پہلے صایئمہ ایوری تنگ اسد کو بتا چکی تھی اور اسد کا ورجن تھا کہ وہ گاووں جا کے اپنے پیرنٹس سے بات کرکے شہر لایئگا اور صایئمہ کا رشتہ مانگنے ھر کے ہوم آئیگا۔ اسد ہیپی ہیپی گھر چلا گیا اور گھر جاکر نہ کوئی ایڈریس ویڈریس اور نہ کوئی کال فون وغیرہ ،،، صائیمہ کے کہنے کے مطابق ایوری پاسبل کوشش کی لیکن اب تک اسد کا کوئی رابطہ نہیں ہوا، ہاو ایور اسکے دوستوں کے مطابق جناب نے اپنے بچپن کی منگیتر سے شادی کی ہے اور لاف اینڈ ہیپی کی لایئف گزار رہا ہے۔ صائیمہ اب بھی اسد کے بے وفائی کے جواز سرچ کر رہی ہے۔ لیکن اس سٹوری کو صرف اسد ہی بیلنس کرسکتا ھے تا کہ اسکا ورجن کیا ہے۔ لیکن صائمہ کی ڈھلتی جوانی بھی جواب دینے لگی ہے اور ہر کی زندگی کا کوئی حاصل بھی نہیں ہے۔ صائمہ نجانے کتنے پیپلز کو فیس بک پر اپنی ہاف لو کی کہانی سناتی رہیگی اور پھر لائک می اسکے ساتھ ملتے ملتے ہر کا دکھ درد ریڈیوس کرنے کی ناکام کوشش کرتے رہینگے۔ کیا محبت ایسی ہوتی ہے اگر نہیں تو پھر کیسی ہوتی ہے۔۔۔؟