Like Us

There was an error in this gadget

Thursday, April 10, 2014

سلاله او ملاله کے علاوه سب جائز هے

Image

سول کپڑوں میں ملبوس ایک حاضر سروس کپتان نے ریڈیو پروگرام کے بیچ میں سٹوڈیو کا دروازہ کھول کر اپنی تیزی اور زہانت کا مظاہرہ کیا اور پروگرام کے درمیان میں پوچھ گچ بھی کی جس سے اندازہ ہوتا تھا کہ پیمرا کے میڈیایی اخلاق کا ٹھیکہ تو جناب کے پاس ہے۔ جناب نے دھیمی آواز میں سٹوڈیو کے اندر کہا،کیا آپ آن ایئر ہیں، میں نے جواب میں سر ہلا کے حامی بھر دی۔ اور وہ سٹوڈیو سے اپنی ہٹلرانہ سٹایئل میں نکل گئے۔ صاحب اس خوشی سے پھولے نہ سمائے اور پروگرام کے بیچ میں ہی میرے پروڈیوسر کو میرے پیچھے اس پیغام کے ساتھ بھیج دیا کہ کیپٹن صاحب پروگرام کے بعد آپ سے ملاقات کے خواہشمند ہیں۔
اس نوزایئدہ کیریئر میں نے اپنے صحافتی پیشواووں سے ایک بات سیکھی تھی کہ جب وردی والی سرکار چاہے باوردی ہو یا بے وردی اپنے تیءں بلائے تب معاملہ کچھ ٹھیک نہیں ہوتا اور باقی پروگرام جو کہ ابھی تیس منٹ باقی تھا یہی غم کھاتا رہا کہ نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام Imageہوجائے۔ اور ایسی اضطراب کی صورت بھی کیوں نہ ہو جناب دو ٹکے کے اینکر نے بڑے بوٹ صاف کیے بغیر اپنے پروگرام میں ان کے گرو جی کی کلاس لی تھی۔ جس کا وہ ازحد برا مان گئے تھے مجھے تو ایسا لگ رہا تھا جیسے میں اس وقت مرزا قادیانی کی جگہ کھڑا تمام مذہبی جماعتوں کا ردعمل برداشت کررہا ہوں۔ میں نے کوئی نبوت کا دعوا نہٰیں کیا تھا اور نہ ہی ناموس رسالت کے کسی قانون کو چیلنج کیا تھا لیکن اس سے بڑھکر بھی کوئی قوت ہے جو سارے پاکستان کو سموئے ہوئے ہے اور تمام مکتبہء فکر کے لوگ اس کی قدرت اور کرشموں کی قائل ہے جناب اگر آپ کا دھیان اسوقت کسی روحانی چکر میں ہے تو براہ کرم میری نسبت آپ درست جگہ پہ نہٰیں بلکہ میں تو اپنے وطن کے جیالوں، سیاچن کے رکھوالوں اور سوات میں لوگوں کی عصمت کے محافظین کی بات کررہا ہوں۔ جناب نے بلا کر کہا کہ کس سے پوچھ کے آپ نے اپنے پروگرام میں یہ انٹرویو شامل کیا ہے اور جناب میرے بارے میں کچھ زیادہ ہی شکوک و شبھات کا اظہار کرنے لگے۔ وہ اپنے پروٹوکول اور میرے معافی مانگنے کے انتظار میں تھے لیکن میں نے کہہ دیا کہ جناب میرے پاس وقت اتنا نہیں اگر آپ نے مجھے کوئی تنبیہ دینی ہی ہے تو جلدی صادر فرما دیجئے۔ جس پر وہ مزید آگ بگولہ ہوگئے اور شام کو مجھے اپنے ریڈیو سے کال آیی کہ آپکے لئے مزید پروگرام نہیں ہے لحاظہ آپ پھر آنے کی زحمت مت کیجئے گا اور بات یہاں ختم نہیں ہوئی میرے بلکہ ساتھ میرے دوسرے ساتھی اینکر کو بھی نکال باہر کردیا گیا اور انصاف کی بات تو یہ ہے کہ میرے پسینے کی کمائی بھی مجھ سے ھذف کر دی گئی۔
یہ قریب ۲۱۰۲ کی اواخر کی بات ہے جن دنوں خاتون الہند،قوم کی چہیتی، سب کے دلوں کی آواز حضرت جناب ملالہ یوسفزئی رحمتہ اللہ علیہ پر طالبان کے حملے کا ڈھونگ رچا تھا۔ اور بدقسمتی سے میں ان دنوں میں سوات کے طالبان راڈیو کے ردعمل میں پاک فوج کے شعبہء تعلقات عامہ کی جانب سے کھولے گئے ایف ایم ۶۹ کا واحد اینکر تھا جو اس موضوع کا باریک بینی سے باخبر پاکستان پروگرام میں تجزیہ کرنے لگا اور تجزیہ بھی ایسا کہ اپنے معروف صحافی دوست کے یہ الفاظ بھی اس تجزیے میں شامل تھے کہ ملالہ کو سوات میں لڑکیوں کی تعلیم کے لئے اواز اجاگر کرنے کے سلسلے میں نشانہ نہیں بنایا گیا بلکہ اسکے پیچھے بی بی سی کے لئے گل مکئی نام سے لکھے جانے والی وہ ڈائری ہے جو کہ دنیا بھر میں پاکستانی طالبان کے تذلیل کا موجب بنی۔ اس پری ریکارڈڈ انٹرویو میں یہ بھی ایک سوال اٹھایا گیا تھا کہ کیا جنرل کیانی صرف ملالہ کے کیانی ہیں جو کہ فورن سے بھی پہلے ان کی عیادت کو پہنچے اور پلک جپکتے ہی محترمہ علاج کے لئے ہوایی ایمبولینس میں راولپنڈی سی ایم ایچ منتقل کردی گئی۔ تو کیا ایسے میں ان بچے بچیوں کا شکوہ بجا نہیں جو کہ لاپتہ افراد یا دہشتگردوں کے زمرے میں ڈرون حملوں کی نظر ہوتے ہیں۔ اسی موضوع پر پروگرام میں کافی سارا فیڈبیک بھی آیا اور ساتھ میں میری نوکری بھی گئی۔
لیکن ہم سوچ رہے تھے کہ جو باتٰیں ہم نے کی ہے وہ تو لوگوں کی دل کی آواز ہے پھر کیوں ہمارے ساتھ ایسا ہوا لیکن یہ بات تو ہمیں بعد میں سمجھ آیی کہ پاک فوج کے جوان نے ہلمٹ صرف اس لئے پہنی ہوتی ہے کہ اس کا سر بچا رہے ورنہ اس میں اندر سوچ بچار کے لئے کچھ ہوتا نہیں کیونکہ ان بچاروں کے فیصلے تو کہیں اور سے وحی کے زریعے وارد ہوتے ہیں۔
یہ تو اللہ بھلا کرے تحریک طالبان پاکستان کے جناب عدنان رشید کا کہ انھوں نے ملالہ کو خط لکھا جس میں وہی بات کہی گئی تھی کہ ’ملالہ تمھیں لڑکیوں کی تعلیم کے لئے اٹھائے گئے آواز کی پاداش میں نشانہ نہیں بنایا گیا بلکہ اصل موجب تو وہ بلاگ ہے جو آپ سوات آپریشن کے دوران ہمارے خلاف لکھا کرتی تھی‘
موصوف خط میں مزید یہ بھی فرماتے ہیں کہ یاد رکھو ملالہ تم اس لئے ملالہ ہو کہ تم پر طالبان نے حملہ کیا ہے اگر تم کہیں امریکی ڈرون طیارے کے حملے کا نشانہ بنتی تو شائد ہی تمھاری اتنی پزیرائی ہوتی بلکہ تمھاری خبر ہی کسے نشریاتی ادارے سے نشر ہی نہیں ہوتی کیونکہ وہ ڈرون تو ابامہ کی پالیسی کہ حصہ ہے اور وہ تو آپ کے آئڈئیل بھی ہیں۔
تو یہ تو وہی بات ہویی جو میں نے دو سال قبل اپنے پروگرام میں کہی تھی لیکن شائد میری عدنان رشید جتنی مصدقہ شخصیت نہیں تھی۔ خیر یہی نہیں مہران ایئر بیس کے مبئنہ ماسٹر مائینڈ نے اپنے دل کی بڑاس نکالنے کے لئے مزید لکھا ہے کہ ہم طالبان اگر چاہتے تو سوات میں ہزاروں لڑکیاں
سکول جاتی تھی انکو بھی نشانہ بناسکتے تھے لیکن انھوں نے تو بلاگ ہی نہیں لکھے۔ خط میں آگے یہ بھی لکھا تھا کہ ہم طالبان کسی
بھی سکول کے اڑانے کے زمہ دار نہیں کیونکہ آپکی پاک آرمی اور ایف سی اسے اپنی پناہ گاہوں اور کیمپوں کی جگہ استعمال میں لاتی ہیں جو کہ لازمن ہمارے کاروائی کا نشانہ بن جاتے ہیں۔
ہمارے ہاں کئی ادارے اپنے اداریاتی اختیارات کی حدود سے باہے گشت کر رہی ہیں اور کئی ادارے اپنے خول میں اسیے بند ہیں کہ اپنے حدود کے اندر بھی بے بس ہیں۔ اسکی زندہ مثال ہمارا سپریم کورٹ آف اکستان ہے جسکی سنتا ہر کوئی ہے لیکن مانتا کوئی نہیں۔ اسی طرح ابھی پچھلے دنوں میں ایک بین الاقوامی ویب نیوز پیپر کے لئے پاک افغان کراس بارڈر شیلنگ کے ایک ٹاسک پہ کام کر رہا تھا جس کے لئے میں نے فوج کے شعبہء تعلقات عامہ کے ایک میجر صاحب رابطہ کیا تو جناب نے یہ معزوری ظاہر کی کہ ان باتوں کا اختیار تو ہمارے بڑے ہدایت کار میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ کے ساتھ ہے تو میں نے ان کے شان میں بھی عرض کیا کے عالم پناہ مجھے یہ ایک ٹاسک ملا ہے کہ پاک افغان بارڈر پر اب تک کتنے حملے ہوچکے ہیں اس میں کون کتنا ملوث ہے اور اس سے سویلین کو کتنا نقصان اٹھانا پڑا ہے تو آگے سے جواب ملا کہ جناب یہ تو دفتر خارجہ کا کام ہے اور آپ ان ہی سے رجوع کریں چنانچہ فتبال کے کیری کی طرح اپنے سوالوں کے جواب کی تاک میں دفترخارجہ سے بھی رابطہ کیا تو وہاں پر ایک ڈیپلومیٹک جواب کے ساتھ یہ ہدایت ملی کی اس مد میں مجھے فوج کے شعبہء تعلقات عامہ سے ہی بھتر رہنمائی مل سکتی ہے۔ تب جا کہ مجھے اپنے میتھس ٹیچر اعظم استاد جی کی بات سمجھ میں آئی کہ متماثل الاضلاع مثلث کے تینوں ضلعے برابر ہوتے ہیں جس سے باہر نکلنے کا کوئی چانس نہیں ہوتا۔
اور جب یہی گول مٹول جوابات میں اپنے ایڈیٹر صاحب کو ارسال کئے تو نتیجتن تین صفحے کی سٹوری میں میرے ملک کا موقف تین لائنز پر مبنی تھا۔ جبکہ سلالہ چیک پوسٹ پر جب حملہ کیا گیا تھا تو وہاں پر بھی ہمارے ملک کی آزاد اور خودمختار خارجہ پالیسی کا وضع قطع واضح کیا گیا تھا اور ایک ٹیلیفون پر ۶۲ جوانوں کی جانوں کا سودا ڈن ہوگیا۔
میرے بھائی اگر میرے وطن میں رہنا ہے تو میرے وطن کے اقدار اور اصولوں کو اپنانا ہوگا کیونکہ یہاں ملالہ اور سلالہ حملے کے علاوہ سب کچھ حلالہ ہے۔ اگر میری طرح پنگہ لو گے تو بنے بنائے چیک سے نوکری سمیت ہاتھ دھو بیٹھو گے۔
ایں جی۔۔۔۔ ہاں جی

Reactions:

0 comments:

Post a Comment